مہمند ایجنسی(  عزیر خان مہمند سے) مرکزی مومند پر یس کلب کی جانب سے خویزئی بائیزئی سب ڈویژن میں عوام کو درپیش مسائل پر مبنی ایک فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں اہالیان علاقہ اور سیاسی وفلاحی تنظیموں کے کارکنوں نے کھل کر اپنے مسائل کو میڈیا کے نمائندوں کے سامنے بیان کیں ۔ اس موقع پر خویزئی آٹا بازار میں منعقدہ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماء فضل خالق ،راز محمد، ملک رئیس، ملک مہراب دین،ٹیچر امجد، ملک عبدالمالک اور دیگر نے کہا کہ خویزئی بائیزئی ایک پسماند ہ علاقہ ہے اور یہاں کے عوام کو گوناگوں مسائل درپیش ہیں جس کو حل کرنا ،حکام بالا اور مقامی انتظامیہ کی نوٹس میں لانا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب علاقے میں امن وامان کی حالا ت خراب تھی تو یہاں کے عوام نے سب سے بڑھ کر ہر قسم قربانیاں دی ہے اور علاقے میں قیام امن کیلئے سیکورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کیا ہے مگر بدقسمتی سے علاقے میں امن کی فضاء بہتر ہونے کے باوجود یہاں کے عوام کودرپیش بنیادی مسائل حل نہ ہوسکیں جس کے باعث علاقے کے عوام کو سخت مشکلا ت کا سامنا ہے جس میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے درپیش مسائل سرفہرست ہے کیونکہ علاقے میں مراکز صحت موجود ہیں لیکن اس میں علاقے کے مریضوںکیلئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مراکز صحت میں عملہ کی ڈیوٹیاں نہ ہونے کی برابرہے اور اکثر بی ایچ یوز اور ہیلتھ سنٹروں میں تعینات عملہ صرف اپنی تنخواہیں گھروں میں بیٹھ ک وصول کررہے ہیں جن میں غیرمقامی افراد تعینات ہیں جن کا تعلق صوبے کے دیگر اضلاع سے ہیں جبکہ مقامی افراد کی بھرتی نہ ہونے کی برابر ہے یہ لوگ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے بھرتی ہوئیں ہیں جبکہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار مارے پھر رہے ہیں اس ضمن میں اہالیان علاقے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ صحت اورتعلیم میں مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پربھرتی کریں۔ اس طرح منعقدہ فورم میں علاقے کے عوام نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جب رات کے اوقات میں خاص کر خواتین کو جب ڈیلیوری کا مسئلہ پیش آتاہے تو یہاں کے ہسپتالوں میں کوئی بھی خاتون عملہ نہیں ہوتا لیکن جب رات کو ہم اپنے مریضوں کو دوسرے علاقو ں کولے جاتے ہیں تو رات کی تاریکی میں سیکورٹی ہمیں آگے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ علاقے کے ہسپتالوں میں ایم بی بی ایس میل اور فی میل ڈاکٹروں کو تعینات کیاجائے تاکہ علاقے کے عوام کا مسئلہ حل ہوسکیں۔اسی طرح فورم میں شرکاء نے بتایا کہ تعلیم بھی یہاں کے عوام کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور دو تحصیلوں خویزئی بائیزئی سب ڈویژن کی لاکھوں آبادی کیلئے ہائی سکول موجود نہیں ہیں جس کے بعد اکثر آٹھویں جماعت کے بعد طلباء اور طالبات تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔کیونکہ اکثر طلباء کے والدین غریب ہوتے ہیں ان کی مالی استطاعت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں پرآگے مزید تعلیم حاصل کرسکیں۔اس ضمن میں اہالیان علاقہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سب ڈویژن خویزئی بائیزئی میں کثیر تعداد میں ہائی سکولوں کی منظوری دیں تاکہ علاقے کے طلباء اپنے گھروں میں تعلیم حا صل کریں۔

Share To:

Anonymous

Post A Comment:

0 comments so far,add yours