مہمند ایجنسی (مانیٹرنگ ڈیسک)
جماعت اسلامی ایم ایم اے کی بحالی کے بعد فاٹا انضمام کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں، نثار مومند
باچاخان بابا پرانگلیاں اٹھانے والے اپنے پردادا کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔
دھرنوں کی سیاست کرنے والوں کی تبدیلی کا اندازہ پشاور کے کھنڈرات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
دونوں بھائی دس سال اقتدار میں رہنے کے باوجود اب بھی ٹرانسفرمر کی سیاست کررہے ہیں۔
عوام ان کے جال میں پھنسنے والے نہیں، تحصیل صافی ساگی پایاں میں گرینڈ شمولیتی اجتماع سے خطاب
عوامی نیشنل پارٹی ضلع مہمند ایجنسی کے صدرنثار مومند نے کہا ہے کہ انتظامیہ اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتاریاں اور گھروں کو مسمارکرنابند کردیں،تحصیل صافی نادرا آفس کو بحال کریں،مہمندباجوڑ شاہراہ پر کام شروع کی جائے، موبائل نیٹورک کو بحال کیا جائے، لشمینیا ویکسین کی فراہمی یقینی بنائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل صافی ساگی پایاں میں گرینڈ شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر مہمند ایجنسی نثار مومندنے پی ٹی آئی، جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی سے مستعفی ہونے والے سینکڑوں کی تعدد میں کارکنوں اور عہدیداروں کو سرخ ٹوپیاں پہنائی اور انہیں باچاخان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ ایف سی آر کے تحت بے گناہ لوگوں کو اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتار اور گھروں کو مسمارکررہے ہیں،جبکہ جمعیت علماء اسلام اسی قانون کی رکھوالی کررہے ہیں، آج جماعت اسلامی بھی ان کے ساتھ مل کرپختون قوم اور قبائیلوں کی پسماندگی میں بھرپور کردار اداکررہی ہے۔ انہوں نے قراردادپیش کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتاریاں اور گھروں کو مسمارکرنابند کردیں ۔ انہوں نے تحصیل صافی نادرا آفس کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ایجنسی کے عوام اور خاص کر صافی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت متاثر ہوئے ہیں اس لیے ان کے غم اور تکالیف کو کم کرنے اور انہیں سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، انہوں نے پوری ایجنسی میں موبائل نیٹورک بحال کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موبائل نیٹورک کی بندش کی وجہ سے دہشت گردی کنٹرول کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیٹورک بندش واقعی دہشت گردی پر قابوں پایا جا سکتا ہے تو پھر پورے پاکستان میں بھی موبائل نیٹورک کو بند کیا جائے کیونکہ پنجاب ہی میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا، لاہور ہی میں گورنر کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے مہمند باجوڑ شاہراہ پر جلد کام شروع کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہاں ہسپتال اور ڈاکٹرزنہ ہونے کی وجہ سے عوام تکلیف میں مبتلا ہے تو دوسری طرف روڈ نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔انہوں نے صافی تحصیل کے ہسپتالوں میں لشمینیاں ویکسین فراہمی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں لشمینیاں وباء پھیلنے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعدادمیں لوگ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ لشمینیاں مچھر پہاڑوں میں پیدا ہوتی اور یہاں کے عوام زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صدر مہمند ایجنسی نثار مومند نے گرینڈ جلسے کی وساطت سے مختلف قراردادیں بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اجتماعی ذمہ داری کے تحت گرفتاریاں اور گھروں کو مسمارکرنابند کردیں، تحصیل صافی نادرا آفس کو بحال کریں،باجوڑ سڑک پر کام شروع کی جائے، موبائل نیٹورک کو بحال کیا جائے، لشمینیا ویکسین کی فراہمی یقینی بنائے،جلسہ عام میں تمام لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر مشترکہ طور پر قراردادیں منظور کیے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ باچا خان بابا کو کافر کہتے ہیں وہ اپنیپر دادا کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں جبکہ باچا خان بابا نے دو دفعہ پیدل حج کیا تھا، حاجی ترنگزو بابا جی کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا تھا اور جب دیوبند جاتا تو عبدالکلام بھی اس کی امامت میں باجماعت نماز ادا کرتے۔ نثار مومند نے ٹرانسفرمر کی سیاست کرنے والوں خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کے عوام میں شعور آگیا ہے اب انہیں دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ عوام کو ٹرانسفرمر کی نہیں بجلی کی ضرورت ہے، دونوں بھائی دس سال اقتدار میں رہنے کے باوجود اب بھی وہی پرانے وعدے دہراتے ہیں لیکن عوام ان کے جال میں پھنسنے والے نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس نے صوبے کا حال بدحال کردیا وہ فاٹا میں کیا تبدیلی لے کر آئینگے؟ چار سال تک دھرنوں کی سیاست کرنے والوں کی تبدیلی کا اندازہ پشاور کے کھنڈرات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اور فاٹا انضمام کے حوالے سے جمعیت اور جماعت اسلامی کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق تھا، اب جماعت اسلامی یہ بات واضح کریں کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے یا مولانا کو بھی راضی کیا لیکن اصل میں انہیں ایف سی آر سے کوئی عرض ہے اور نہ فاٹا کے عوام کو عذاب سے چھٹکارا دلانے کا بلکہ انہیں صرف اپنی کرسی کی فکر لگی ہوئی ہے۔



Post A Comment:
0 comments so far,add yours